پیر 14 ستمبر 2026 - 06:20
خلیج کے حالات؛ لمحۂ فکریہ

حوزہ / عرب ممالک میں جس طرح امریکی اڈے بنائے گئے اور انہیں اسلامی جمہوری ایران کے خلاف استعمال کیا گیا، اس طرح تو شاید ان ممالک نے بھی نہیں سوچا ہو گا۔

مفتی گلزار احمد نعیمی

حوزہ نیوز ایجنسی | مشرق وسطیٰ میں خلیجی ممالک کے حالات دن بدن ابتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی لگائی ہوئی خوفناک آگ کا ایندھن امت مسلمہ کے اثاثہ جات اور مسلمان بن رہے ہیں۔ عرب ممالک میں جس طرح امریکی اڈے بنائے گئے اور انہیں اسلامی جمہوری ایران کے خلاف استعمال کیا گیا، اس طرح تو شاید ان ممالک نے بھی نہیں سوچا ہو گا۔ یا بعض ممالک کو ایران سے خوفزدہ کیا گیا اور وہ خوفزدہ ہو کر اپنا سب کچھ امریکہ کے حوالے کر بیٹھے۔

آج صورت حال یہ ہے کہ امریکہ مسلم ممالک کی سرزمین سے ایران پر حملے کرتا ہے اور نقصان عرب ممالک کا ہوتا ہے۔ جب سعودی عرب کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوتی ہے تو ایران جواب میں سعودی عرب میں امریکی اڈوں اور اس کے ٹھکانوں پر حملہ کرتا ہے۔

پوری دنیا جانتی ہے سعودی عرب میں حرمین شریفین موجود ہیں اور ان کا تحفظ ہمیں اپنی جانوں کے تحفظ سے بھی زیادہ عزیز ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ حرمین شریفین جتنا سعودی عرب پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے لیے اہم ہیں اسی طرح وہ اسلامی جمہوری ایران کے لیے بھی مہم ہیں۔

کچھ لوگ سعودی عرب میں امریکی ٹھکانوں پر حملہ حرمین شریفین پر حملہ تصور کر رہے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان سے ایک مسلک کے سینٹر صاحب نے کہا ہے کہ اگر پاکستان حرمین کے تحفظ کے لیے نہیں جاتا تو ہم اپنے ایک لاکھ جوان حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے بھیجنے کو تیار ہیں۔ میرے خیال میں اگر پاکستان کے بجائے سعودی عرب سے گزارش کی جائے کہ وہ اپنے ملک سے امریکی اڈوں کو ختم کرنے کا اعلان کرے اور اس شیطان اعظم کو اپنے ملک سے نکال دے تو سعودی عرب ایک محفوظ ملک بن سکتا ہے۔پاکستان کو ہر طرف سے دشمنوں نے گھیر رکھا ہے۔ ان نوجوانوں کی پاکستان کو سعودی عرب سے زیادہ ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پاکستان کسی ملک کا ٹھیکیدار نہیں ہے کہ غلطیاں وہ کریں اور قربانیاں ہمارے جوان دیں۔ ایک افغانستان کی مثال ہمارے لیے کافی ہے۔

میری دانست میں اگر اہل عرب آج امریکہ کو نکال دیں تو ایران کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کرے گا جب تک اس پر کسی ملک کی طرف سے حملہ نہ ہو۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تو اپنے تازہ بیان میں خطے کے تمام سٹیک ہولڈرز کو دعوت دی ہے کہ آئیں مل بیٹھ کر اپنے اختلاف ختم کریں اور استکباری قوتوں کو اپنے علاقے سے نکالیں۔

اگر عربوں نے ایران کی اس پیشکش کا مثبت جواب نہ دیا تو وہ مزید دلدل میں پھنستے چلے جائیں گے۔ آج اگر حوثی مجاہدین نے باب المندب پر کنڑول حاصل کر لیا ہے تو کل انہیں آگے بڑھنے سے کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ جوں جوں وقت گزر رہا ہے توں توں امت مسلمہ کو تباہی و بربادی کے خوفناک بادل اندھیروں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

روشنی اتحاد امت میں ہے۔ اجالا مل بیٹھنے میں ہے۔ ایران پچاس سال سے اتحاد کی صدائیں بلند کر رہا ہے امت کو اس کا ہم آواز بننا ہو گا۔ اسی میں عافیت ہے اور اسی میں خیرو برکت ہے۔ والسلام

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha